کیا واقعی ہم بحثیت مجموعی انحطاط پزیری کا شکار ہو گئے ہیں؟ عبداللہ ثمین

موٹروے زیادتی کیس نے ایک طرف پرانے سارے زخم تازہ کر دیے ہیں تو دوسری طرف اس کیس پر پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی ہمدردی پر بھی بے شمار سوال اٹھا دیے ہیں۔

کیا ایسے وقت میں جب پورا ملک اداس اور مایوسیت کا شکار ہے کسی بھی پولیس افسر یا نام نہاد مجاہد کو ایسے بیانات دینے چاہیے۔ یا آگے بڑھ کر کھلے دل سے اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں تلاش کرنی چاہے اور اس واقہ کی زمہ داری لینی چاہیے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ حکومت جو کہ ریاست مدینہ بنانے کے وعدے پر الیکش جیت کر آئی تھی۔ ریاست مدینہ تو کیا بناتی اُلٹا ہر بندہ عدم تحظ کا شکا بن گیا ہے۔ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو اور خاص کر خواتین و بچیوں کے اس صدمے سے نکالا جائے ورنہ وہ بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکارہو جائین گئیں اور ہماری اگلی نسل کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
جہاں تک معلوم ہوا ہے خاتون اور اس کی فیملی فرانس میں رہتے تھے۔ ان کے پاس وہاں کی نیشنیلٹی بھی تھی۔ خاتون کے ایک رشتہ دار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو لے کر پاکستان آئی تھی کہ بچے یہیں پڑھیں اور یہیں کے اسلامی کلچر کے مطابق پلیں بڑھیں۔ایک ایجنسی کے دوست کا کہنا ہے کہ ہم لوگ جس وقت جائے وقوعہ پر پہنچے خاتون پولیس والوں کے آگے گڑگڑا رہی تھی کہ مجھے گولی مار دو۔میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ وہ ان لوگوں کو خدا کے واسطے دے رہی تھی کہ مجھے گولی مار دو۔ انہیں ان کے بچوں کا واسطہ دے رہی تھی کہ مجھے مار دو۔ اس کے اس مطالبے پر عمل نہیں ہوا تو اس نے دوسرا مطالبہ سامنے رکھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ یہاں موجود سب لوگ حلف دیں کہ اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے۔ اس کے خاندان اور کسی بھی اور شخص کو اس وقوعے کے بارے میں پتہ نہ چلے۔وہ مقدمہ درج نہیں کرانا چاہتی۔ یہاں موجود ایک ایس پی صاحب نے خاتون کو یقین دہانی کرائی کہ یہ وقوعہ بالکل بھی ہائی لائٹ نہیں ہو گا۔خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی۔ عموما فارنزک سائنس ایجنسی والے ایسے مواقع پر وکٹم کی تصاویر لیتے ہیں۔ لیکن خاتون کی حالت ایسی افسوسناک اور دردناک تھی کہ کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ اسے اس کام کیلئے کہہ سکے یا تصاویر اتار سکے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر ان کی منتیں کر رہی تھی کہ مجھے قتل کر دو۔ خاتون شاید اسے فرانس سمجھ کر ہی رات کے اس پہر بچوں کو لے کر گوجرانولہ جانے کیلئے نکلی تھی کہ کونسا زیادہ سفر ہے۔ ایک گھنٹے میں گوجرانوالہ پہنچ جائیں گے۔ لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ یہ پاکستان ہے۔ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔موٹر وے پہ بے بس عورت کا ریپ وہ بھی اُس کے بچوں کے سامنے پاکستانی معاشرہ وحشی درندوں کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ یہاں انسانیت کا جنازہ آئے روز دھوم دھام سے اٹھتا ہے

 بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کیا ماں اور بچے آیندہ آنکھ ملا سکیں گے باعزت زندگی جی سکیں گئے۔انسانیت ہی نہیں رہی کہ کہیں پر بہن بیٹی محفوظ رہ سکے کیا. گزرتی ہوگی ان پر اللہ ظالموں کو تباہ کرے آمین عمر بھر انکی زندگی میں یہ زیادتی ٹھہری رہے گی.حکومت سے گزارش ہے کہ ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے یا ذرا سی بھی شرم محسوس کرتے ہوئے اپنی کرسیاں چھوڑ کے گھر چلے جائیں۔.

Please follow and like us:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *