سیاحت کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ عبداللہ ثمین

پاکستان کو اللہ نے بے شمار خوبصورت پہاڑوں، میدانوں اور وادیوں سے نوازا ہے۔ اگر حالات ٹھیک ہوں، امن ہو تو نہ صرف ملکی بلکہ لاکھوں غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کے ان علاقوں کیس یر کو آئیں اور اس کے نتیجہ میں کثیر زرمبادلہ بھی حاصل ہو۔

کمراٹ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے بالائی دیر ضلع کی ایک وادی ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کی ایک قدرتی وادیوں میں سے ایک ہے اور مسافروں کے لئے ایک خوبصورت مقام ہے۔ ہر گرمی کے موسم میں ملک کے مختلف علاقوں سے ہزاروں سیاح وادی قمرت کا رخ کرتے ہیں اور ہرے اور ٹھنڈے موسم سے لطف اٹھاتے ہیں

پچھلے ہفتے میں ایک ٹریننگ کانفرنس کے سلسلے میں صوبہ کے پی کے کی خوبصورت وادی کمراٹ گیا تو میں اس قدر قدرتی مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ایسے لگتا جیسے اللہ نے جنت سے کوئی ٹکڑا زمین پر بھیج دیا ہو۔ میں ان خوبصورت مناظر کے حسن میں کتنی دیر کھویا رہا۔

چار دن کی کانفرنس میں جہاں بہت سی نئی باتیں سیکھنے اور سکھانے کو ملی وہاں بار بار دل میں یہ خیال آتا رہا کہ ان علاقوں کی ترقی سے اور کثیر تعداد میں سیاحوں کے آنے سے اس علاقے کے لوگوں کسی بھی بڑے شہر میں جا کر مزدوری کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ کاروبار کر سکیں گئے۔

بحثیت قوم ہمیں ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ صرف علم ہونے یا تعلیم ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اس پر عمل بھی ضروری ہے۔ اس لیے آج سے ہی تمام سیاحت کو شوقین افراد اور مقامی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صفائی کا معیار بہت اچھا رکھیں اور ساتھ ساتھ ہی قدرتی ماحول کو قدرتی رکھنے کی طرف پوری توجہ دیں۔

یہ ٹرپ اس لحاظ سے بھی بڑا منفرد تھا کہ سیرو سیاحت کے ساتھ ساتھ سیکھنے اور سکھانے کا عمل بھی بڑے زور وشور سے جاری رہا۔ مجھ سمیت پانچ سپیکر تھے۔ جن میں سب سے کم عمر اور کم تجربہ کار تھا۔ مجھے نوجوانوں کو بغیر پیسوں کے کامیاب کاروبار کا اغاز اور موزوں لیڈرشپ پر بولنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے حالیہ کرونا ٹائم میں اپنے سٹارٹ کردا کاروبار ڈیکوریا گروپ کے بارے اپنا تجربہ بیان کیا۔ جسے تمام شرکا نے بہت پسند کیا اور حوصلہ افزائی کی۔ اللہ کا شکر کہ جب آخر میں بیسٹ سپیکر کے لیے شرکا سے ووٹنگ کروائی تو مجے بیسٹ سپیکر کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ مجھے ہمت دے کہ اپنی قوم اور ملک پاکستان کے لیے کوئی اچھی خدمت پیش کر سکوں۔

Please follow and like us:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *